عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

آزادی کا قرض Azadi ka Qarz

"یہ افسانہ غلامی کی اُن زنجیروں کی داستان ہے جو ہاتھوں میں نہیں ہوتیں، مگر نسلوں کے خواب باندھے رکھتی ہیں۔"

مرکزی خیال:
یہ افسانہ اُس استحصالی نظام کی کہانی ہے جس میں غریب انسان نسل در نسل قرض، وفاداری اور جھوٹے وعدوں کی زنجیروں میں جکڑا رہتا ہے۔ آزادی اُس کے لیے ایک خواب بن جاتی ہے، اور طاقت ور طبقہ اُس خواب کو امید کے نام پر مسلسل مؤخر کرتا رہتا ہے۔


بسنت کی رات اپنے پورے جوبن پر تھی۔ آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے بھرا ہوا تھا اور زمین شور، قہقہوں اور للکاروں سے۔ جب کوئی پتنگ کٹتی تو ہزاروں گلے ایک ساتھ پھٹ پڑتے، جیسے شہر نے اچانک کوئی جنگ جیت لی ہو۔ لاری اڈے کے قریب واقع گڈی گراؤنڈ انسانوں سے یوں بھرا تھا جیسے کسی دریا میں سیلاب آ گیا ہو۔

مگر اس شور میں ایک آدمی ایسا بھی تھا جس کی نظریں آسمان پر نہیں، زمین پر تھیں۔

چراغ دین۔

وہ ہجوم کے بیچ سے بار بار راستہ بناتا، چہروں کو غور سے دیکھتا اور آگے بڑھ جاتا۔ لوگ خوشی ڈھونڈنے آئے تھے، وہ ایک آدمی ڈھونڈنے آیا تھا۔

چھوٹے رئیس صاحب۔

گاؤں سے روانہ کرتے وقت بڑے رئیس نے اسے بار بار تاکید کی تھی:

"گڈی گراؤنڈ ہی جانا۔ بسنت کی رات وہ وہیں ملے گا۔"

چراغ دین نے حکم کو نصیحت نہیں، تقدیر سمجھ کر قبول کیا تھا۔

رات گزرتی رہی۔

پتنگیں کٹتی رہیں۔

نعرے بلند ہوتے رہے۔

اور چراغ دین ہجوم میں ایک سایے کی طرح بھٹکتا رہا۔

کئی بار کٹی ہوئی پتنگیں اس کے قدموں کے پاس آ گریں۔ بچے لپکے، نوجوان دوڑے، بوڑھے تک جھگڑ پڑے؛ مگر چراغ دین نے ایک بار بھی ہاتھ نہ بڑھایا۔ اُس کے لیے آسمان میں اڑتی ہوئی ہر پتنگ بے معنی تھی۔ اُس کی پوری دنیا ایک نام میں سمٹ چکی تھی۔

"چھوٹے رئیس صاحب۔"

صبح کی پہلی سفیدی افق پر ابھرنے لگی تو اُس کے قدم لڑکھڑانے لگے۔ بھوک اب پیٹ سے نکل کر آنکھوں تک پہنچ چکی تھی۔ جیب خالی تھی اور جسم رات بھر کی خاک چھاننے سے بوجھل۔

ایسے لمحوں میں اُسے اپنا گاؤں یاد آتا تھا۔

بھٹے کی سرخ مٹی۔

دھوئیں سے کالے ہوئے چہرے۔

اور ماں باپ کے جھریوں بھرے ہاتھ۔

وہ لوگ جو عمر بھر اینٹیں پکاتے رہے مگر اپنی زندگی کی ایک اینٹ بھی سیدھی نہ رکھ سکے۔

قرض اُن کے خاندان میں بیماری کی طرح منتقل ہوتا آیا تھا۔

باپ سے بیٹے تک۔

بیٹے سے اُس کے نصیب تک۔

چراغ دین نے ہوش سنبھالتے ہی جان لیا تھا کہ وہ آزاد پیدا نہیں ہوا۔

وہ قرض میں پیدا ہوا ہے۔

جب دوسرے بچے مٹی کے گھروندے بناتے تھے، وہ اینٹیں ڈھوتا تھا۔

جب دوسرے لڑکے خواب دیکھتے تھے، وہ سود گنتا تھا۔

اور جب جوان ہوا تو اسے معلوم ہوا کہ اُس کی پوری جوانی کسی اور کی ملکیت ہے۔

پھر ایک دن بھٹہ مالک کے چھوٹے بھائی کو ملازم درکار ہوا اور چراغ دین شہر بھیج دیا گیا۔

شہر اُس کے لیے خواب تھا۔

وہ سمجھتا تھا شاید یہاں قسمت کا کوئی دروازہ کھل جائے۔

شاید کوئی ایسا آدمی مل جائے جو اُسے غلام نہیں، انسان سمجھے۔

اسی امید کے سہارے وہ بسنت کی اس بھیڑ میں چھوٹے رئیس کو تلاش کر رہا تھا۔

دوپہر کے قریب اچانک اُس کی نظر ایک آدمی پر جا کر ٹھہر گئی۔

سفید شلوار قمیص۔

آنکھوں پر دھوپ کا چشمہ۔

ہاتھ میں ڈور کی چرخی۔

اور چہرے پر فتح کی بے فکری۔

"ساب جی سلام!"

چراغ دین نے جھجکتے ہوئے کہا۔

کوئی جواب نہ آیا۔

چھوٹے رئیس کی نظریں ابھی تک آسمان پر تھیں۔

"ساب جی... آپ رئیس احمد ہیں نا؟"

اس بار اُس نے گردن موڑی۔

"ہاں۔"

"مجھے بڑے رئیس صاحب نے بھیجا ہے۔"

"اوہ... تم!"

اس نے ایک سرسری نظر ڈالی۔

پھر چرخی اُس کے ہاتھ میں تھما دی۔

"یہ پکڑو۔"

بس اتنا ہی۔

تعارف ختم ہوگیا۔

چراغ دین پورا دن چرخی پکڑے کھڑا رہا۔ کبھی ڈور کھینچتا، کبھی لپیٹتا، کبھی کٹی ہوئی پتنگ پر نعرہ لگاتا۔ سورج ڈھل گیا، شام آ گئی، پھر رات۔

اور اُس کا جسم جواب دینے لگا۔

اچانک اُس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔

زمین گھومنے لگی۔

اور وہ گر پڑا۔

جب آنکھ کھلی تو سامنے لسی کا گلاس اور دو قیمے والے نان پڑے تھے۔

"بیمار ہو؟"

رئیس احمد نے پوچھا۔

"نہیں ساب جی۔"

"پھر؟"

"راستے کی تھکن ہے۔"

رئیس احمد نے سر ہلایا۔

"کھا لو۔ پھر کوٹھی چلیں گے۔"

وہ کھاتا رہا۔

ایسے جیسے روٹی نہیں، زندگی کھا رہا ہو۔

(2)

دو سال گزر گئے۔

کوٹھی مکمل ہو چکی تھی۔

بلند دیواریں، سنگِ مرمر کے فرش، سرسبز لان، فوارے، اصطبل، محافظ...

یہ گھر کم اور ایک سلطنت زیادہ لگتا تھا۔

چراغ دین بھی وہیں رہتا تھا۔

مگر اُس حصے میں جہاں نوکروں کے کمرے تھے۔

ایک تنگ، نم آلود کوٹھڑی۔

جس کی چھت گرمی میں تندور اور سردی میں قبر بن جاتی تھی۔

وہ صبح سے رات تک کام کرتا۔

باغ سنوارتا۔

سامان اٹھاتا۔

مہمانوں کی خدمت کرتا۔

اور ہر رات سونے سے پہلے ایک ہی خواب دیکھتا:

آزادی۔

صرف آزادی۔

آخر ایک دن اُس نے ہمت کر لی۔

رئیس احمد کے سامنے جا کھڑا ہوا۔

"ساب جی... ایک عرض تھی۔"

"ہاں، بولو۔"

"دو سال ہوگئے ہیں۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو... میرے ماں باپ کا قرض معاف کروا دیں۔"

رئیس احمد نے مسکراتے ہوئے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

"چراغ دین، تم بہت اچھے آدمی ہو۔"

وہ خاموش کھڑا رہا۔

"الیکشن آنے والے ہیں۔ میرا ساتھ دو۔ کامیابی کے بعد تمہاری نوکری بھی پکی، قرض بھی ختم۔"

چراغ دین کی آنکھوں میں روشنی بھر گئی۔

وہ پھر کام میں جُت گیا۔

پہلے سے زیادہ۔

شاید انسان سب سے زیادہ محنت اُس وقت کرتا ہے جب اُسے امید دی جائے۔

(3)

الیکشن گزر گئے۔

رئیس احمد جیت گیا۔

شہر بھر میں اُس کے پوسٹر لگ گئے۔

لوگ مبارکباد دینے آنے لگے۔

اور چراغ دین دن گننے لگا۔

ایک۔

دو۔

تین۔

چھ ماہ۔

پھر ایک دن بارش ہوئی۔

جنوری کی سرد بارش۔

آسمان پر کالے بادل یوں چھائے تھے جیسے کسی نے دن پر راکھ ڈال دی ہو۔

چراغ دین کے اندر بھی ایک موسم برسوں سے جمع تھا۔

آج اُس نے فیصلہ کر لیا۔

جو ہوگا، دیکھ لیا جائے گا۔

وہ رئیس احمد کے کمرے کی طرف بڑھا۔

دروازہ آہستہ سے کھولا۔

ابھی اندر قدم رکھا ہی تھا کہ کسی نے پیچھے سے اُس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ دیا۔

وہ چونک گیا۔

رئیس احمد تھا۔

"اچھا ہوا تم مل گئے۔"

اُس نے خوش دلی سے کہا۔

"میں ابھی تمہیں ہی بلانے والا تھا۔"

چراغ دین کا دل زور سے دھڑکا۔

شاید...

شاید آج...

"میں نے تمہارے لیے ایک بڑا انتظام کیا ہے۔"

چراغ دین کے ہونٹ خشک ہو گئے۔

رئیس احمد مسکرایا۔

"آج سے تم وزیر صاحب کے سپرد ہو۔"

چراغ دین نے کچھ نہ کہا۔

صرف دیکھتا رہا۔

"تم جیسے وفادار آدمی کی وہاں بڑی قدر ہوگی۔ میری سفارش بھی ساتھ ہے۔"

کمرے کی کھڑکی پر بارش کی بوندیں زور سے آ کر ٹوٹیں۔

"اور یاد رکھو..."

رئیس احمد نے فخر سے کہا،

"وزیر کے در کا کتا بھی وزیر ہی ہوتا ہے۔"

چراغ دین نے محسوس کیا جیسے کسی نے اُس کے سینے میں برف بھر دی ہو۔

وہی خواب...

وہی آزادی...

وہی وعدے...

سب ایک لمحے میں بھیگ گئے۔

بارش تیز ہو چکی تھی۔

وہ خاموشی سے پلٹا۔

دروازہ کھولا۔

اور باہر نکل آیا۔

صحن میں پانی جمع ہو رہا تھا۔

آسمان سے گرنے والی ہر بوند اُسے ایک ادھورا وعدہ محسوس ہوئی۔

وہ دیر تک بارش میں کھڑا رہا۔

پھر آہستہ آہستہ سرونٹ کوارٹر کی طرف چل پڑا۔

اُس کے قدموں سے پانی چھلک رہا تھا۔

اور اُس کے پیچھے، کیچڑ میں بننے والے نشان ایسے لگ رہے تھے جیسے کوئی زنجیر گھسٹتی ہوئی جا رہی ہو۔

ـــــــــــــــــــ

مشکل الفاظ کے معنی:

استحصال: ناجائز فائدہ اٹھانا

جاں فشانی: پوری محنت اور لگن سے کام کرنا

وفاداری: خلوص اور پابندی سے ساتھ نبھانا

اصطبل: گھوڑوں کا باڑا

نم آلود: سیلن زدہ، مرطوب

افق: زمین اور آسمان کے ملنے کا کنارا

سرونٹ کوارٹر: ملازمین کی رہائش گاہ

توصیف: تعریف، ستائش

 ہمارے ادبی سفر کا حصہ بنیں! اگر آپ کو یہ افسانہ پسند آیا ہے اور آپ آئندہ بھی ایسی تحریریں پڑھنا چاہتے ہیں، تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے ہمارا واٹس ایپ چینل ضرور جوائن کریں: 🔗 واٹس ایپ چینل لنک 📚


ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: